Harf-e-Urdu- حرف اردو : ایک چھوٹی سی نیکی جب انمول انعام دیتی ہے - اصلاحی

ایک چھوٹی سی نیکی جب انمول انعام دیتی ہے - اصلاحی - Harf-e-Urdu- حرف اردو

حرف اردو

Post Top Ad

Your Ad Spot

پیر، 24 فروری، 2020

ایک چھوٹی سی نیکی جب انمول انعام دیتی ہے - اصلاحی

ایک چھوٹی سی نیکی جب انمول انعام دیتی ہے - اصلاحی

کسی ایک جگہ کہی ایک میٹ کی فیکٹری تھی جس میں بہت سے لوگ کام کرتے تہے – وہ لوگ روزانہ صبح آتے تہے اور اپنا روز مرہ کا کر کام کرنے کا بعد فیکٹری سے روانہ ہو جایا کرتے تہے – وہاں ایک کام کرنے والا شخص جس کا نام احسن تھا بہت تمیز والا اور محنتی شخص تھا – ہر ایک سے روزانہ اچھے سے ملتا تھا یھاں تک کہ فیکٹری کے صدر دروازے پر کھڑے ہوےسیکورٹی گارڈ سے بھی آتے جاتے اچھے سے سلام دعا کیا کرتا تھا -ہر کام کو دل سے کرنے کہ ساتھ ساتھ حسن اخلاق میں بھی بہترین تھا – ایسی چیزیں احسن کو باقیوں سے قدرے الگ انسان ظاہر کرتی تھی-


ایک مرتبہ  احسن کا جب کام ختم ہوا تو وہ گھر جانے کی سوچنے لگا تو اس کو فورا خیال آیا کہ فریزینگ والے کمرے میں آج کا سامان رکھ آتا ہوں اس نےسوچا گھر جانے سے پہلے یہ کام کرتے ہوے چلا جاؤں گا- احسن نے سامان اٹھایا اور فریزینگ والے کمرے کی طرف چل دیا – احسن کمرے میں داخل ہوا اور اس نے وہاں میٹ کو فریز کرنےکے لیے رکھ دیا – جب احسن کام کر رہا تھا تو اسے اندازہ نہیں ہوا کا کسی طرح سے فریزینگ کے کمرے کا دروازہ بند ہو چکا تھا اور اس کویہ بات معلوم تھی کہ یہ دروازہ صرف باہر سے ہی کھل سکتا ہے – اس نےجب احساس کیا کا وہ اب ایک بڑی مشکل میں پھنس چکا ہے – تو اس نے زور سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا پر یہ وہ وقت تھا کہ جب سب لوگ اپنے اپنے گھر جانے کی راہ لیتے تھے- انھیں یہ خبر کہا تھا کہ احسن فریزینگ والے کمرے میں پھنس گیا ہے –

اس فریزینگ روم کامسلسل ٹمپریچر  احسن کی برداشت سے باہر ہوتا جا رہا تھا – اسی حالت میں احسن کو اس کمرے میں پھنسے ہوے 2 گھنٹے کا وقت بیت چکا تھا- مزید اور کچھ گھٹے اس کی موت کا سبب بھی بن سکتے ہیں – اسی اثنا میں احسن اب بہت پریشان ہو چکا تھا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ اے الله میری مشکل کو حل فرما – پھر احسن کو خیال آتا ہے اور وہ دعا میں التجا کرتا ہے کہ اے میرے الله میری کوئی ایسی نیکی جسے آپ نے پسند کیا ہو اس کے صدقہ میں میری یہاں سے رہائی کا سبب پیدا کر دے – مجھے بچا لے –

احسن نے یہاں دعا مانگی اور وہاں قبول ہوئی – باہر سے کسی نے دروازہ کھولا اور احسن کو جو کہ اب بہت پریشان تھا باہر لے آیا – احسن نے جب دیکھا کہ اسے بچانے کے لیے کون آیا ہے تو حیران رہ گیا کہ یہ وہ ہی سیکورٹی گارڈ تھا جو فیکٹری کہ صدر دروازے پر کھڑا رہتا تھا – احسن کی طبیعت جب بهتر ہوئی تو اس نے پوچھا کہ آپ نے مجھے کسے ڈھونڈا – سیکورٹی گارڈ نے بتایا کہ آپ ایک ایسے شخص ہیں کہ جو ہر روز جب ملتے ہیں مجھ سے تو صبح کا سلام کرتے ہیں اور جب جاتے ہیں تو الوداع کہہ کر جاتے ہیں – آج آپ کا صبح کا سلام تو آیا پر آپ نے مجھے شام کو الوداع نہیں کہا – تو مجھے لگا آپ اندر ہی ہیں میں آپ کی تلاش میں اندر آیا اور ہر جگہ تلاش کیا تو آپ مجھے فریزینگ روم میں  ایسی حالت میں ملے –

احسن نے سیکورٹی گارڈ کا شکریہ ادا کیا اور اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ادا  کیا کہ جس نے احسن کو اس  نیکی کرنے کی توفیق دی تھی اور جس نیکی کی وجہ سے اس کی آج جان بچ گئی تھی احسن نے سیکورٹی گارڈ کو الوداع کہا اور گھر کی رہ لی –

اس کہانی سےہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نیکی کا مول کوئی نہیں ہے – آپ کی ہر نیکی چاہےوہ چھوٹی سی ہی کیوں نہ ہو اس کا اجر الله پاک کے ہاں بہت زیادہ ہے – اسی لیے ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی  چاہیے کہ ہم اپنے آپ کو نیکی کے کاموں میں لگائے رکھے – اسی میں دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے -

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

Your Ad Spot