سونے کی اینٹ - حقایات سعدی
ایک پارسا کو سونے کی اینٹ کہیں سے مل گئی - دنیا کی اس دولت نے اس کے نور باطن کی دولت کو چھین لیا اور وہ سری رات یہی سوچتا رہا کہ اب میں سنگ مر مر کی ایک عالیشان حویلی بنواؤں گا بہت سارے نوکر چاکر رکھوں گا ، عمدہ عمدہ کھانے کھاؤں گا اور اعلی درجے کی پوشاک سلواؤں گا -
غرض تمنول کے خیال نے اسے دیوانہ بنا دیا - نہ کھانے پینے کا ہوش رہا نہ ہی ذکر حق یاد رہا - صبح کو اسی خیال سی مست جنگل می نکل گیا - وہاں دیکھا کہ اک شخص ایک قبر پے مٹی گوندھ رہا ہے تا کہ اس سے اینٹیں بنے - یا نظارہ دیکھ کر پارسا کی آنکھں کھل گیں اور اس کو خیال آیا کہ مرنے کے بعد میری قبر کی مٹی سے بھی لوگ اینٹیں بنائیں گے - عالیشان مکان ، اعلی لباس ، عمدہ کھانے سب کے سب یہی پہ رہ جائیں گے - اسی لیے سونے کی اینٹ سے دل لگانا بیکار ہے -
ہاں دل لگانا ہے تو اپنے حقیقی خالق سے لگا - یے سوچ کر اس نے سونے کی اینٹ کہیں پھینک دی اور پھر پھلے کی طرح زہدوقنات کی زندگی بسر کرنے لگا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں