اردو شاعری - میر درد - Urdu Shairi - Meer Dard
مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کے رقم کاحقہ کہ خداوند ہے تو لوح و قلم کا
اس مسند عزت پہ کہ تو جلوہ نما ہے
کیا تاب گز ہووے تعقل کے قدم کا
بستے ہیں ترے سائے میں سب شیخ و برہمن
آباد ہے تجھ سے ہی تو گھر دیر و حرم کا
ہے خوف اگر جی میں تو ہے ترے غضب سے
اور دل میں بھروسہ ہے تو ہے ترے کرم کا
مانند حباب ،آنکھ تو ، اے درد ! کھلی تھی
کھینچا نہ پر اس بحر میں عرصہ کوئی دم کا
ماہتیتوں کو روشن کرتا ہے نور تیرا
اعیان ہیں مظاہر ، ظاہر ظہور تیرا
یاں افتقار کا تو امکاں سبب ہوا ہے
ہم ہوں نہ ہوں ولے ہے ہونا ضرور تیرا
باہر نہ آسکی تو قید خودی سے اپنی
اے عقل بے حقیقت دیکھا شعور تیرا
ہے جلوہ گاہ تیرا کیا غیب کیا شہادت
یاں ہے شہود تیرا واں ہے حضور تیرا
جھکتا نہیں ہمارا دل تو کسو طرف یاں
جی میں سما رہا ہے از بس غرور تیرا
اے درد منبسط ہے ہر سو کمال اس کا
نقصان گر تو دیکھے ، تو ہے قصور تیرا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں