قصص الانبیاء - حضرت ادریس عَلَيْهِ لسَّلَامُ
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں" اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو بے شک وہ صدیق تھا غیب کی خبریں دیتا اور ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھا لیا "
لکھنے کا طریقہ اور علم رمل
محمّد بن اسحاق سے روایت ہے کہ حضرت ادریس عَلَيْهِ لسَّلَامُ ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے سب سی پہلے لکھنے کا طریقہ جاری کیا - آپ عَلَيْهِ لسَّلَامُ نے حضرت آدم عَلَيْهِ لسَّلَامُ کا زمانہ پایا اور آپ کی پیدائش کے ٣٨٠ سال بعد تک زندہ رہے -
بعض علماء فرماتے ہیں کہ معاویہ بن حکم سلمی کی بیان کردہ حدیث پاک میں حضرت ادریس عَلَيْهِ لسَّلَامُ کی طرف ہی اشارہ کیا گیا ہے - " جب حضور نبی کریم ﷺ سے علم رمل کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ایک نبی ریت پر خط کھینچا کرتے تھے بس جس شخص کا خط ان کے خط کے موافق پڑے، اسے بعض چھپی چیزوں کا علم ہو جاتا ہے - علماء کے تفسیر و احکام میں سے بہت سارے لوگوں کا یہ گمان ہے کہ سب سے پہلے علم رمل میں حضرت ادریس عَلَيْهِ لسَّلَامُ نے ہی گفتگو کی - اسی لیے آپ عَلَيْهِ لسَّلَامُ کو اس علم کا سب سے بڑا ماہر کہا جاتا ہے- اہل نجوم آپ عَلَيْهِ لسَّلَامُ کی طرف کئی جھوٹ باندھتے ہیں جس طرح کہ اکثر لوگ انبیاء ، علماء اور اولیاء کرام کے بارے کرتے رہتے ہیں -
اللہ تعالیٰ کا ارشاد " و ر فعناہ مکا نا علیا " سے مراد آپ کے مقام و مرتبہ کی بلندی ہے - جیسا کہ صحیین میں حدیث معراج سے ثابت ہے - " کہ حضور نبی کریم ﷺ کا گزر حضرت ادریس عَلَيْهِ لسَّلَامُ سے ہوا - آپ چوتھے آسمان پر تھے "-
ابن جریر سے روایت ہے کہ ہلال بن یساف کی موجود گی میں حضرت ابن عباس رضي الله عنه نے حضرت کعب رضي الله عنه سے دریافت فرمایا : " حضرت ادریس عَلَيْهِ لسَّلَامُ کے بارے میں ارشاد ربانی " و ر فعناہ مکا نا علیا " کا کیا مقصد ہے ؟ حضرت کعب رضي الله عنه نے فرمایا : حضرت ادریس عَلَيْهِ لسَّلَامُ کو اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ میں ہر روز تمہیں تمام بنی آدم کے نیک کاموں کے مطابق بلند کروں گا - شاید اس سے مراد اس دور کے لوگ ہوں تو آپ عَلَيْهِ لسَّلَامُ نے یہ بات پسند کی کہ زیادہ سے زیادہ نیک عمل کریں- آپ عَلَيْهِ لسَّلَامُ کے پاس ایک فرشتہ آیا جو آپ کا بہت گہرا دوست تھا- آپ نے اس کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف اس طرح وحی کی ہے لہذا آپ موت کے فرشتے سےبات کریں تا کہ میں زیادہ سے زیادہ نیک عمل بجا لا سکوں - تو فرشتے نے آپ کو دو پروں کے درمیان اٹھایا اور آپ کو لے کر آسمان کی طرف چلا گیا ، جب وو چوتھے آسمان پر پہنچے تو اسے موت کا فرشتہ ملا جو نیچے اتر رہا تھا - دوست فرشتے نے ملک اللموت سے اس سلسلے میں بات کی جس کے متعلق حضرت ادریس عَلَيْهِ لسَّلَامُ نے اس سے بات کی تھی - ملک اللموت نے پوچھا : حضرت ادریس عَلَيْهِ لسَّلَامُ کہاں ہیں ؟ فرشتے نے بتایا کہ وہ میری پیٹھ پر سوار ہیں - کہنے لگا : یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں ان کی چوتھے آسمان پر روح قبض کروں جبکہ وہ زمین پر ہوں ؟ سو فرشتہ اجل نے حضرت ادریس عَلَيْهِ لسَّلَامُ کی روح قبض کر لی جبکہ وہ چوتھے آسمان پر تھے - اس قول " و ر فعناہ مکا نا علیا " میں اسی بات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے - اس آیت کی تفسیر کرتے ہوے ابو حاطم لکھتے ہیں کہ جب ملک اللموت سے اس فرشتے کی ملاقات ہوئی تو حضرت ادریس عَلَيْهِ لسَّلَامُ وہیں موجود تھے کہ ان کی بقیہ عمر کتنی ہے ؟ فرشتہ اجل نے کہا کہ میں جب تک دیکھ نہیں لیتا کچھ نہیں کہ سکتا- فرشتہ اجل نے آپ کو دیکھا اور کہا: آپ ایسے شخص کی عمر کے بارے میں مت پوچھیں جن کی عمر صرف پلک جھپکنے کی دیر باقی ہے - فرشتے نے اپنے پروں کے نیچے دیکھا تو حضرت ادریس عَلَيْهِ لسَّلَامُ رحلت فرما چکے تھے اور ان کے دوست فرشتے کو معلوم بھی نہ ہو سکا تھا کہ وہ کب جہاں فانی سےکوچ فرما گے- یہ ایک روایت اور بہت سی روایتں بھی ہیں - (والله اعلم )

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں