Harf-e-Urdu- حرف اردو : حضرت صالح کی اونٹنی ، پاکستان اور نور الہی

حضرت صالح کی اونٹنی ، پاکستان اور نور الہی - Harf-e-Urdu- حرف اردو

حرف اردو

Post Top Ad

Your Ad Spot

منگل، 20 جون، 2023

حضرت صالح کی اونٹنی ، پاکستان اور نور الہی

 حضرت صالح کی اونٹنی ، پاکستان اور نور الہی


Allah might accomplish what was destined to be done

پاکستان


دشمنوں کا حضرت صالح کی اونٹنی کو حقیر سمجھتا، جب خدا چاہتا ہے کہ کسی لشکر کو ہلاک کرے ، ان کی نگاہوں میں دشمنوں کو حقیر دکھاتا ہے، اور وہ تم کو ان کی نظر میں کم دکھاتا تھاتا کہ اس کام کو سر انجام دے جو دوہ کرنا چاہتا ہے)


جناب اشفاق احمد صاحب فرماتے ہیں کہ یہ پاکستان حضرت صالح کی اونٹنی ہے۔ اس کا احترام اور ادب ہم سب پر واجب ہے۔ اس ملک، اس سر زمین، اس دھرتی کے خلاف کوئی بات کی تو کپڑے جائیں گے اور بڑے عذاب کی صورت گزریں گے. حضرت صالح قوم ثمود کے نبی تھے۔ اللہ نے ان کے لئے بطور معجزہ ایک اونٹنی پتھر سے پیدا کر دی جس کو قوم نے اس ضد


میں مار ڈالا کہ وہ تالاب کا پانی پی لیتی تھی۔ اس پر قوم نمود پر زلزلہ کا عذاب


آیا اور وہ تباہ ہوگئی۔


آئے اشفاق احمد صاحب کی اس نصیحت، اور حضرت صالح اور اومنی کے واقعے میں چھپی ہوئی حقیقت کو علامہ اقبال کے روحانی مرشد ، مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ کی مثنوی سے ساد و الفاظ میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ مقصد پاکستان اور مقصود الٹی سب پر واضح ہو جائے، گزارش ہے کہ اسے غور سے پڑھیں.


مولاناروم فرماتے ہیں کہ


اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے ہمیں اس دنیا میں اگلوں کے بعد پیدا فرمایا ہے یہاں تک ہم نے اللہ تعالی کی ان سزاؤں کو سن لیا جو گزشتہ زمانوں میں اگلے لوگوں کو دی گئیں تاکہ ہم اگلے زمانوں کے بھیٹریوں کے حال سے اپنی خوب حفاظت کرلیں۔ عقلمند انسان اپنے اندر سے تکبر اور غرور نکال دیتا ہے جب وہ فرعونوں اور قوم عاد و محمود کے قصے سکتا ہے.... اب حضرت صالح کا مشہور قصہ سن ، الفاظ سے گزر جاء ان میں معنی طلب کر کیونکہ تو ظاہر میں انجام کو نہیں دیکھتا ہے۔ تو انجام پر نظر کرے گا تو عافیت پائے گا.


حضرت صالح کی روشنی بظاہر ایک اوشنی تھی مگر اس جاہل قوم نے اپنی جہالت سے اس کی کو ٹھیں (پاؤں) کاٹ دیں . وہ ایک قدرتی پانی کی وجہ سے اس کے دشمن ہو گئے اور وہ احسان فراموش تھے ۔ اللہ ا سمجزر اللہ کی بارانی نہر سے پانی پیتا تھا۔ انہوں نے اللہ کا پانی اللہ سے روکا۔ انہوں نے خدائی معاملات کو سرسری لیا اور خود غلطی کا شکار ہو کر قبرائی سے نیست و نابود ہو گئے۔ اوشنی کی مثال نیک لوگوں اور اہل حق کے جسم سی ہے جو بد بختوں کی ہلاکت کی وجہ بنی روح حضرت صالح ہیں اور جسم روشنی ہے۔ روح صالح ہے جو آنتوں کا اثر قبول کرنے والی نہیں ہے۔ روح تو سلامتی وعافیت میں ہے کیوں کہ اس کو قتل کرنے پر لوگ قادر نہیں مگر جسم (اومنی) کو زخمی اور تکلیف دینے میں حکمت یہ ہے کہ روح کے دشمن اور ظالمین، ظلم اور انکار کی سزا پائیں۔ قوم محمود کی تمام تر و همنی حضرت صالح سے تھی مگر اس کا اثر اونٹنی پر ہوا اور حضرت صالح بچے رہے، اللہ تعالی نے ایک حکمت سے روح (صالح) کو جسم ( دوشنی) سے ملادیا تا کہ لوگ جسم کو ستائیں، دکھ دیں اور سزا پائیں۔ لوگ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ جسم کو ستانا، روح کو ستانا ہوتا ہے کیونکہ جسم کی روح، نور الہی ہے پس اللہ کے کسی نیک بندے کو دکھ دینا اور آزار پہنچانا، خود اللہ کے ساتھ نبرد آزما ہونا ہوتا ہے۔ حدیث قدسی ہے حضور ملی ایم نے فرمایا "جو شخص میرے کسی دوست سے بغض رکھے میں اس سے اعلان جنگ کر یہوں"۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی فرہتا ہے " جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں۔ ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھنکار ہے اور خدانے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا


ہے" (سورہ احزاب)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

Your Ad Spot