منحوس بھولا اور بادشاہ - تربیت
پرانے وقتوں کی بات ہے کہ کہی ایک شخص جو بھوت منحوس سمجھا جاتا تھا وہاں کا بادشاہ جو کے بہت ہی نیک دل اور دانشمند انسان تھا اس کی رعایا میں ایک بھولا نامی شخص بہت ہی مشہور تھا کہ وہ بہت منحوس ہے اور بادشاہ نے اس کو اپنے محل میں نوکری دے رکھی تھی- سارا دن وہ محل کی دیکھ بھال میں لگا رہتا لیکن پھر بھی درباری اور دوسرے لوگ اس کو منحوس ہی کہتے اور اس سے دور دور رہتے. ایک روز بادشاہ تک یہ بات پہنچی کہ اس کے محل میں اس بیچارے بھولے کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے - تو بادشاہ سوچ میں پڑگیا -
آخر کار بادشاہ نے ایک دن اپنے وزیر کو بلوایا اور اس سے پوچھا کہ بھولا کیسا انسان ہے تو اس نے کہا حضور یہ بہت ہی منحوس شخص ہے اس کا متعلق لوگو ں سے سنا ہے کے یہ تو اپنے پیدا ہوتے ہی اپنے ماں باپ کو کھا گیا- درباری اس کی شکل تک دیکھنا نہیں چاہتے ہیں ڈرتے ہیں کہ کہی اس کی شکل دیکھ لی تو دربار میں وہ اس دن بدنام ہو جائےگے- بادشاہ نے مکمل بات سنی اور وزیر کو رخصت کر دیا-
اگلے دن بادشاہ نے وزیر کے کام کاج کا لیے بھولے کو مقرر کر دیا اور اس دن وزیر کو بہت کوفت ہوئی کہ بادشاہ نے یہ کیا کر دیا- اگلے دن صبح کے وقت وزیر کی خدمت میں پانی کا جام بھولا لے آیا وزیر نے اسے آیندہ اپنے سامنے آنے سے منع کر دیا پر اس وقت اس نے وہ جام پی لیا- جیسے ہی اس نے وہ جام پیا تو اس کی طبیعت تھوڑی دیر کے بعد ناساز ہو گئی - پیٹ کے درد سے وہ بلبلا اٹھا اور ایسے میں گر گیا تو پاؤ ں پر چوٹ بھی لگا بیٹھا - اسی دن وزیر نے اپنے ہردل عزیز گھوڑا سلطان کو بھی کھو دیا- وزیر کو بھولے پر بہت غصہ آیا-
اگلے دن وزیر اور باقی سب مل کر بادشاہ کی خدمات میں حاضر ہوئے اور عرض کی کے اس منحوس بھولے کی وجہ سی بہت نقصان ہوا ہے اسے اس بات کی سخت سے سخت سزا دی جائے - بادشاہ نے ساری بات سنی تو پوچھا کہ محض اس لیے کہ تم نے اس بھولے کی شکل دیکھی تھی اس پر یہ سزا بنتی ہے کیا سب نے یک زبان ہو کر کہا حضور وہ بہت ہی منحوس ہے- بادشاہ نے وزیر کو کہا تم میری ایک بات کا جواب دے دو پھر جو کہو گے تو بھولے کو پھانسی کی سزا سنا دی جائے گی وزیر نے جھٹ سے کہا جی حضور -
بادشاہ نے کہا جس دن تم نے بھولے کی شکل دیکھی اسی دن اس نے بھی تمہاری شکل دیکھی تھی - تم نے اس کی دیکھی تو کہا طبیعت ناساز ہوئی چوٹ لگی اور ہردل عزیز گھوڑا مر گیا - اس نے تمہاری دیکھی تو آج پھانسی پا جائے گا تو بتاؤ تم دونو ں میں سے کون سا شخص زیادہ بڑا منحوس ہوا تم یا بھولا - وزیر سوچ میں پر گیا - طبیب کو بلوایا گیا تو طبیب نےبادشاہ کے پوچھنے پر کہا کہ حضور وزیر نے رات کو شاہی کھانا زیادہ کھا لیا تھا جس کی وجہ سے اس کے پیٹ میں درد ہوا تھا - بادشاہ نے کہا چوٹ تم نے خود ہی لگوائی ہے اور رہی بات تمہارے گھوڑے کی تو اس کی عمر ہو گئی تھی آج نہیں تو کل مر جاتا -
بادشاہ کی بات سن کر وزیر نے پشیمانی کا اظہار کیا اور اپنے رویے کی معافی بھی مانگی اور اس دن بادشاہ نے اعلان کیا کہ کوئی بھی آیندہ بھولے کو منحوس نہیں سمجھے گا -

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں