Harf-e-Urdu- حرف اردو : محبت یاں نفس شیدا - تربیت

محبت یاں نفس شیدا - تربیت - Harf-e-Urdu- حرف اردو

حرف اردو

Post Top Ad

Your Ad Spot

جمعرات، 13 فروری، 2020

محبت یاں نفس شیدا - تربیت

محبت  یاں  نفس شیدا  - تربیت 


محبت ایک ایسا عنوان ہے کے جس پر بہت سے نامورشاعروں  نے ہزاروں نظمیں غزلیں اور اشعارلکھے ہیں پر آج تک شاید ہی کوئی اپنی تخلیق سے مطمئن ہوا ہو – اطمنان ہوبھی تو کیسے ہو یہ جذبہ ہی ایسا ہے- جب عشق کا سودا سر میں سما جاۓتو پھر عقل و خرد کو اپنی دوکان وہاں سے سمیٹنا پڑتی ہے –




محبت کا ہزاروں پہلووں پر غور ہماری کتب کرواتی ہیں ہمیں ہماری ثقافت بھی ہمارے معاشرے میں محبت کا عنصر کا پتہ بتاتی ہے – محبت کا معاشرے پہ گہرا اثر مرتب کرنے میں  ہمارے شاعروں کا بھی ایک بڑاکردار ہے –  آج کے اس جدید دور میں محبت کےمعنی کو بہت بدل کر رکھ دیا ہے -محبت کے جذبہ کو محض کسی ایک ہی شخص کی آرزؤں کو قرار دیا جانے لگا ہے- اسی کے لیے ہر کاوش اسی کو پا لینے کا جنوں اسی کو محبت کہا جانے لگا ہے- محبت کے لیے ایک خاص دن کو مقرر کیا جانے لگا ہے جسے ویلنٹاین ڈے  کا نام دیا گیا ہے  جسے دنیا سمیت پاکستان میں بہت 14 فروری کو منایا جاتا ہے–

آجکل کی نسل جو اپنے اقتدار سے بہت دور ہے جسے اپنے ہونے کا صحیح سے علم نہیں ہے کا اشرف المخلوق ہونے کا کیا مطلب ہےوہ ان چیزوں کو بہت شوق سے منانے کا رجحان رکھتے ہیں اور اپنی محبت کا اظہار اسی14 فروری ہی کو کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں- مختلف گلاب اور غباروں سے اپنے دل کا حال کہا جاتا ہے  -اس دن کی کیا اصل حقیقت ہے شاید ہی کوئی جانتا ہو  – تاریخی اوراق میں جو چند دلیلیں ملتی ہیں چلیں ان پر نظر ڈالتے ہیں –

ایک کہانی جو بہت مشہور زمانہ سینٹ ویلنٹاین کی ہے کہ قدیم روم میں 14 فروری شادی اورعورتوں کی مخصوص دیوی جیونو کا دن تھا – اس موقع پر ایک تہوار منعقد کیا جاتا تھا جس میں رومی لڑکیوں کے نام سے پرچیاں لکھی جاتی تھی پھر قرعہ اندازی کے ذریعے وہ لڑکیاں تہوار میں آئے ہوے مردوں میں تقسیم کر دی جاتی تھیں ، جوڑے تہوار کا دوران ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے تھے بعد اذاں محبت میں گرفتار ہونے کی صورت میں شادی کے بندھن میں بندھ جاتے تھے –

ایک اور کہانی کے مطابق رومی بادشاہ کلوڈیس نے اپنی فوج میں غیر شادی شدہ نوجوانوں کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے شادی پر پابندی لگا دی تھی تاہم مقامی پادری  سینٹ ویلنٹاین نے بادشاہ سے چھپ کر جوڑوں کی شادی کروانے کا فیصلہ کیا – بادشاہ کو جب پتا چلا اس نے اس پادری کو موت کی سزا سنا دی - سینٹ ویلنٹاین کو 14 فروری کو سزا موت دی گئی اور یوں ویلنٹاین ڈے کی روایت چل پڑی – دیکھاجائے تو تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ نظر نہیں آتا اور یہ بھی بات زر غور ہے کہ تاریخ میں بس تین سینٹ ویلنٹاین ہو گزرے ہیں جن کا ذکر آتا ہے پر ان میں سے کسی کو بھی سزا موت نہیں ہوئی –

چودہویں صدی تک رومی تہذیب میں خاص دن منایا جاتا رہا ہے اس صدی میں بعض تاریخ دان 14 فروری  سے وابستہ تاریخی حقیقت میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں اور رومانویت کا عنصر بھی شامل کردیتے ہیں اور یہیں سے ویلنٹاین ڈے کو پریم داستانوں کا اہم حصہ شمار کیا جانے لگا-


بہرحال جو لوگ شعور سے وابستہ نہیں  ہیں اسے کسی حد تک ناگزیر سمجھتے ہیں تاہم ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئیے کہ اس تہوار کا ہماری ثقافت ، مذہبی اقتدار اور شرم و حیا کے کسی بھی پہلو سے کوئی تعلق نہیں ہے زیادہ تر لوگ اسے فیشن کے طور پر اپنا رہے ہیں –ہمیں ایسا کوئی بھی کام نہیں کرنا چاہئیے جو ہماری اقتداراور اخلاقیات سے ہٹ کر ہو –

 











کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

Your Ad Spot