بیوقوف ناسمجھ بادشاہ - اردو کہانی
پرانے وقتوں کی بات ہے کہ بغداد میں ایک شیخ اور اس کا ایک مرید رہتے تھے - ایک مرتبہ انہوں نے کسی شہر کی رہ لی - جب وہ اپنی منزل پر پھنچے تو حیران رہ گے وہاں کھانے پینے کی اشیاءایک روپے فی کلو کے حساب سے مل رہی تھی - مرید کے منہ میں پانی بھر آیا اس نے شیخ سے کہا حضور اس شہر میں قیام کی مدت بڑھا لیجئے تا کے یہاں کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو سکیں - شیخ نے نصیحت کی اور کہا "چونکے یہاں تمام اشیاء کا بھاؤ ایک ہی ہے لہذا مجھے یہاں خطرے کی بو محسوس ہو رہی ہے - ہم یہاں زیدہ دن نی ٹھرے گے "- مرید کی موٹی عقل میں بات نہ آئی اور ضد کر کے بات منوائی -
دونوں ہی ایک دن بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوگے جہاں کھلی کچہری لگی ہوئی تھی - اسی اثناء میں ایک نامی چور لنگڑاتا ہوا آیا اور بادشاہ سے کہا کہ میں ایک عام سا آدمی ہوں ، چوری میرا پیشہ ہے - اسی کے سہارے گزربسر کرتا ہوں - رات میں ایک مکان میں گیا دیوار پہ چڑھا کے دیوار ٹوٹ گئی اور میری ملبے کے نیچے آ کر ٹانگ ٹوٹ گئی - معزور ہو گیا ہوں آپ ملک مکان سے پوچھے کہ اسی کمزور دیوار کیوں بنائی ؟
بادشاہ نے چور کی فریاد سنی تو حکم دیا کہ ملک مکان کو پکڑ کر لایا جائے- ملک مکان کو پکڑ کر لایا گیا تو بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ تم نے اتنی کمزور دور کیوں بنوائی تھی ذرا دیکھو تو سہی ہمارا ہنرمند شہری معذور ہوگیا ہے - ملک مکان نے کہا کے حضور جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں - " کہو کیا کہنا چاہتے ہو " میرے آقا ! دیوار میں نے نہیں بنائی بلکہ معمار نے بنائی تھی - لہذا معمارکو بلوایا جاے - بادشاہ نے ممار کو بلوایا اور اس سے پوچھا " تم نے دیوار کمزور کیوں بنائی جو انسان پر آگری ؟"
معمار نے جواب دیا حضور میری غلطی نہیں ہے مزدور نے گارہ ناقص بنایا تھا - مزدور کو بلوایا گیا - مزدور نے اپنی صفائی میں بیان دیا کہ اس دن وزیراعظم صاحب اپنے ہاتھی پر سوار وہاں سے گزرے تھے - ہاتھی مست تھا مجھے ڈر محسوس ہوا کہ مجھے کچل نہ دے تو میں نے گارےبہت سارا پانی انڈیل دیا اور جان بچا کے بھاگ گیا - بادشاہ نے وزیراعظم سے پوچھا کھا اس دن ہاتھی مست تھا تو کیوں سواری کی ؟ وزیراعظم نے کہا کہ جہاں پناہ ! میرا ہاتھی مست نہیں تھا بلکہ ایک عورت زیورات سے لدی ہوئی اچانک اس کے سامنے آگئی تھی - اس کے زیور کی جھٹکارسن کر ہاتھی مست ہوا تھا - لہذا قصور عورت کا ہے -
بادشاہ نے عورت کو حاضر کرنے کا حکم جاری کیا - جب عورت دربار میں آئی تو بادشاہ نے پوچھا " اری نیک بخت ! تو نے بجنے والے زیور کیوں پہنے تھے ذرا دیکھ تو سہی ترے زیور کی جھںکارسے کس قدر نقصان ہوا ہے " عورت نے سر جھکا کر بارے ادب سے کہا " زیور میں نے ننہیں خریدے میرے خاوند نے مجھے پہناے تھے قصور وار میرا خاوند ہے " خاوند کو بلوایا گیا خاوند نے اپنی صفائی میں کہا کہ زیور بنانے والی کا قصور ہے جس نے ایسے زیور بناے ہیں نہ وہ بجتے اور نہ اس نقصان ہوتا - بادشاہ نے سنار کو طلب کر لیا اور اس سے پوچھا :" ارے تو زیور کیوں ایسے بناتا ہے ؟"
سنار نے جواب دیا ! حضور یہ میرا خاندانی پیشہ ہے میرے باپ دادا بھی یہی کم کرتے تھے جو میں کر رہا ہوں - بادشاہ نے اس بات کو قبول نہیں کیا اور فیصلہ سنیا کہ " سارا قصور ہی سنار کا ہے - اسے پھانسی پر لٹکا دیا جاے " خدام نے حکم کی تعمیل کرتے ہوی سنار کو پکڑ کر جلاد کے حوالے کر دیا - جلاد نے اس کی گردن میں پھندا ڈالا - چونکہ اس کی گردن پتلی تھی - لہذاپھندا فٹ نہ ہوا جلاد نے شکایات کی کہ پھندا سہی طریقے سے اپنے مقام پر نہیں بیٹھتا - بادشاہ نے یہ سورتحال دیکھی تو کہا " اس کو چھوڑ دو جس کی گردن موٹی ہے اسے پکڑ لو "-
اتنے میں خدام کی نظر مرید پر پڑی جس کی کھا کھا کر گردن موٹی ہو چکی تھی پکڑ کر بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا بادشاہ نے دیکھا اور کہا ہاں اب امید ہے کے اس کی گردن میں پھندا پھس جاۓ- اسے جلاد کے حوالے کر دیا گیا - مرید نے اپنے شیخ کو بلیا اور درخواست کی کہ وو اس کی مدد کرے اور اسے موت سے بچانے- شیخ نے کہا " میں نے پہلے ہی کہا تھا کوئی خطرہ ہے یہاں پہ پر تجھے سمجھ نہ آئ میری بات اب بھگتو - " مرید نے گڑگڑاکرفریاد کی کہ آیندہ میں کوئی بات آپ کی نہیں ٹالوں گا آج مجھے بچا لیجئے - اسی اثنا میں مرید کے گلے میں پھندا ڈالا جا چکا تھا -
شیخ بھاگتا ہوا پھانسی گھاٹپر پہنچا اور جلاد سے کہا " اسے چھوڑ دو اور مجھے پھانسی پر چڑھا دو - " بادشاہ نے جب یہ ماجرا دیکھا تو حیران ہوا اور پوچھا کا " تم ایسا کیوں کرنا چا ہتے ہو " شیخ نے کہا میں اس کا مرشد ہوں اور معنے مراقبہ کیا ہے مجھے معلوم ہوا ہے کھا اس مبارک گھڑی میں جو پھانسی چڑھے گا سیدھا جنت میں جاۓ گا - میں نے سوچا کہ میں یہ سادات حاصل کر لوں - بادشاہ نے یہ سنا تو کہا تم سچ کہہ رہے ہو کیا - شیخ نے کہا جی حضور ! سولہ آنے سچ - بادشاہ نے کہا ان سب کو چھوڑ دو اور مجھے پھانسی دی دو تا کہ میں جنت میں داخل ہو سکّوں -
جلاد نے حکم کی تعمیل کی اور بادشاہ سلامت نے پھانسی پا کر مظلوم ر عایا کو اپنی بیوقوفی اور ناسمجھی سے نجات دلا دی -
بادشاہ نے چور کی فریاد سنی تو حکم دیا کہ ملک مکان کو پکڑ کر لایا جائے- ملک مکان کو پکڑ کر لایا گیا تو بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ تم نے اتنی کمزور دور کیوں بنوائی تھی ذرا دیکھو تو سہی ہمارا ہنرمند شہری معذور ہوگیا ہے - ملک مکان نے کہا کے حضور جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں - " کہو کیا کہنا چاہتے ہو " میرے آقا ! دیوار میں نے نہیں بنائی بلکہ معمار نے بنائی تھی - لہذا معمارکو بلوایا جاے - بادشاہ نے ممار کو بلوایا اور اس سے پوچھا " تم نے دیوار کمزور کیوں بنائی جو انسان پر آگری ؟"
معمار نے جواب دیا حضور میری غلطی نہیں ہے مزدور نے گارہ ناقص بنایا تھا - مزدور کو بلوایا گیا - مزدور نے اپنی صفائی میں بیان دیا کہ اس دن وزیراعظم صاحب اپنے ہاتھی پر سوار وہاں سے گزرے تھے - ہاتھی مست تھا مجھے ڈر محسوس ہوا کہ مجھے کچل نہ دے تو میں نے گارےبہت سارا پانی انڈیل دیا اور جان بچا کے بھاگ گیا - بادشاہ نے وزیراعظم سے پوچھا کھا اس دن ہاتھی مست تھا تو کیوں سواری کی ؟ وزیراعظم نے کہا کہ جہاں پناہ ! میرا ہاتھی مست نہیں تھا بلکہ ایک عورت زیورات سے لدی ہوئی اچانک اس کے سامنے آگئی تھی - اس کے زیور کی جھٹکارسن کر ہاتھی مست ہوا تھا - لہذا قصور عورت کا ہے -
بادشاہ نے عورت کو حاضر کرنے کا حکم جاری کیا - جب عورت دربار میں آئی تو بادشاہ نے پوچھا " اری نیک بخت ! تو نے بجنے والے زیور کیوں پہنے تھے ذرا دیکھ تو سہی ترے زیور کی جھںکارسے کس قدر نقصان ہوا ہے " عورت نے سر جھکا کر بارے ادب سے کہا " زیور میں نے ننہیں خریدے میرے خاوند نے مجھے پہناے تھے قصور وار میرا خاوند ہے " خاوند کو بلوایا گیا خاوند نے اپنی صفائی میں کہا کہ زیور بنانے والی کا قصور ہے جس نے ایسے زیور بناے ہیں نہ وہ بجتے اور نہ اس نقصان ہوتا - بادشاہ نے سنار کو طلب کر لیا اور اس سے پوچھا :" ارے تو زیور کیوں ایسے بناتا ہے ؟"
سنار نے جواب دیا ! حضور یہ میرا خاندانی پیشہ ہے میرے باپ دادا بھی یہی کم کرتے تھے جو میں کر رہا ہوں - بادشاہ نے اس بات کو قبول نہیں کیا اور فیصلہ سنیا کہ " سارا قصور ہی سنار کا ہے - اسے پھانسی پر لٹکا دیا جاے " خدام نے حکم کی تعمیل کرتے ہوی سنار کو پکڑ کر جلاد کے حوالے کر دیا - جلاد نے اس کی گردن میں پھندا ڈالا - چونکہ اس کی گردن پتلی تھی - لہذاپھندا فٹ نہ ہوا جلاد نے شکایات کی کہ پھندا سہی طریقے سے اپنے مقام پر نہیں بیٹھتا - بادشاہ نے یہ سورتحال دیکھی تو کہا " اس کو چھوڑ دو جس کی گردن موٹی ہے اسے پکڑ لو "-
اتنے میں خدام کی نظر مرید پر پڑی جس کی کھا کھا کر گردن موٹی ہو چکی تھی پکڑ کر بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا بادشاہ نے دیکھا اور کہا ہاں اب امید ہے کے اس کی گردن میں پھندا پھس جاۓ- اسے جلاد کے حوالے کر دیا گیا - مرید نے اپنے شیخ کو بلیا اور درخواست کی کہ وو اس کی مدد کرے اور اسے موت سے بچانے- شیخ نے کہا " میں نے پہلے ہی کہا تھا کوئی خطرہ ہے یہاں پہ پر تجھے سمجھ نہ آئ میری بات اب بھگتو - " مرید نے گڑگڑاکرفریاد کی کہ آیندہ میں کوئی بات آپ کی نہیں ٹالوں گا آج مجھے بچا لیجئے - اسی اثنا میں مرید کے گلے میں پھندا ڈالا جا چکا تھا -
شیخ بھاگتا ہوا پھانسی گھاٹپر پہنچا اور جلاد سے کہا " اسے چھوڑ دو اور مجھے پھانسی پر چڑھا دو - " بادشاہ نے جب یہ ماجرا دیکھا تو حیران ہوا اور پوچھا کا " تم ایسا کیوں کرنا چا ہتے ہو " شیخ نے کہا میں اس کا مرشد ہوں اور معنے مراقبہ کیا ہے مجھے معلوم ہوا ہے کھا اس مبارک گھڑی میں جو پھانسی چڑھے گا سیدھا جنت میں جاۓ گا - میں نے سوچا کہ میں یہ سادات حاصل کر لوں - بادشاہ نے یہ سنا تو کہا تم سچ کہہ رہے ہو کیا - شیخ نے کہا جی حضور ! سولہ آنے سچ - بادشاہ نے کہا ان سب کو چھوڑ دو اور مجھے پھانسی دی دو تا کہ میں جنت میں داخل ہو سکّوں -
جلاد نے حکم کی تعمیل کی اور بادشاہ سلامت نے پھانسی پا کر مظلوم ر عایا کو اپنی بیوقوفی اور ناسمجھی سے نجات دلا دی -

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں