حضرت یوسف عَلَيْهِ لسَّلَامُ، دور فرونیت اور اہل مصر - اسلامک
آپ نے ملک مصر کا نام ضرور پڑھا ہوگا – اس ملک پر ایک زمانے میں چرواہے بادشاہوں کی حکومت تھی – یہ لوگ اصل میں شام اور فلسطین کے رہنے والے تھے اور ان کا پیشہ غله بانی تھا- جب مصر خانہ جنگی کا شکار ہوا تو ان کے لوگوں نے حالات سے فائدہ اٹھا کر مصر پر قبضہ کر لیا – اور وہاں پراپنی حکومت قائم کر لی – مصری لوگ ان دنوں دیوی اور دیوتاؤں کی پوجا کیا کرتے تھے – ان کے دیوتاؤں میں سب سے بڑا سورج دیوتا تھا – اپنے بادشاہ کو وہ سورج کا اوتار سمجھتے تھے – چناچہ فرعون کی بھی پو جا ہوتی تھی – اہل مصر پکے مشرک تھے – اس وقت مصر میں ایک قوم بنی اسرائیل بھی رہتی تھی –آپ کو پتہ ہوگا کہ اسرائیلی کون تھے – اسرائیل حضرت یعقوب عَلَيْهِ لسَّلَامُ کا لقب تھا – اس لیے ان کی اولاد بنی اسرائیل کہلاتی ہے – حضرت یعقوب عَلَيْهِ لسَّلَامُ فلسطین ( کنعان ) میں رہتے تھے – ان کے بارہ بیٹے تھے جن میں ایک حضرت یوسف عَلَيْهِ لسَّلَامُ تھے جن کو ان کے بھائی بڑی حسد کی نگاہ سے دیکھتے تھے – ایک بار وہ اپنے والد سے اجازت لے کر حضرت یوسف عَلَيْهِ لسَّلَامُ کو شکار کے بہانے ساتھ لے گئے اور ان کو راستے میں ایک اندھے کنویں میں ڈال آئے - مگر جسے الله رکھے اس پر کوئی مصیبت نہیں آتی - چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے اور قدرت سے ایک قافلہ جو اس طرف سے گزر رہا تھا اس نے اس کنویں سے پانی نکلنے کے لیے ڈول ڈالا تو حضرت یوسف عَلَيْهِ لسَّلَامُ باہر آگے اور بکتے بکتے مصر کی حکومت کے ایک بڑے عہدیدار یعنی عزیز مصر کے پاس آگے – اس نے ان کو اپنے گھر میں عزت کے ساتھ رکھا مگر عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف عَلَيْهِ لسَّلَامُ پر ایک جھوٹی تہمت لگا کر ان کو قید خانے میں ڈلوا دیا- مگر قید خانے میں تمام لوگ اور قیدی ان کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے- کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ حضرت یوسف عَلَيْهِ لسَّلَامُ نہایت شریف اور نیک انسان ہیں –
اس زمانے میں مصر کے بادشاہ نے ایک عجیب خواب دیکھا مگر دربار میں کوئی بھی آدمی اس خواب کی تعبیر نہ بتا سکا – چنانچہ ایک قیدی جو ابھی ابھی رہا ہوا تھا اور بادشا ہ کے دربار میں درباری بن گیا تھا اس نے بتایا کہ قید خانے میں حضرت یوسف عَلَيْهِ لسَّلَامُ نامی ایک نیک انسان خواب کی تعبیر بتا سکتے ہیں – عزیز مصر نے فوری طور پر ان کو جیل سے دربار میں بلایا اور ان کو اپنا خواب سنایا – حضرت یوسف عَلَيْهِ لسَّلَامُ نے اس خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ ملک میں لگاتار سات برس تک خوشحالی رہے گی اور پھر سات برس تک قحط رہے گا – اس قحط سے بچنے کے لیے انہوں نے بادشاہ کو تدبیر بھی بتائی – اس بات سے بادشاہ کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ پورے ملک میں حضرت یوسف عَلَيْهِ لسَّلَامُ سے زیادہ عقل مند اور کوئی نہیں ہے – اسے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ وہ بلکل بے قصور ہیں اور انہیں ناحق ہی قیدی کر رکھا ہے – اس کے فرمان کے مطابق انہیں رہا کر کے بڑی عزت اور احترام کے ساتھ دربار میں ایک اعلی عہدہ پیش کر دیا گیا – حضرت یوسف عَلَيْهِ لسَّلَامُ کے حسن انتظام کی بدولت قحط کے سات سالوں میں بھی مصر میں غلے کی فروانی رہی – بلکہ ہمسایہ ملکوں کو بھی سستے بھاؤ غلہ فراہم کیا گیا – حضرت یوسف عَلَيْهِ لسَّلَامُ کے بھائی بھی کئی بار غلا لینے کنعان سے مصر آئے – اس کے بعد حضرت یوسف عَلَيْهِ لسَّلَامُ نے اپنے پورے خاندان کو مصر بلا لیا – ان دنوں مصر کا پایہ تخت عمض تھا –
اس وقت اہل مصر پکے مشرک تھے مگر بنی اسرائیل اس دین کے پیروکار تھے جو انہیں حضرت ابراہیم عَلَيْهِ لسَّلَامُ سے ملا تھا – آپ دوسر ے الفاظ میں یہ سمجھ لے کہ بنی اسرائیل اس زمانے کے مسلمان تھے اور مصری کافر اور مشرک تھے -

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں