حضرت موسیٰ عَلَيْهِ لسَّلَامُ کی پیدائش اور ان کی والدہ کا موسیٰ عَلَيْهِ لسَّلَامُ کونیل میں ڈالنا - قصص الانبیاء
حضرت یوسف عَلَيْهِ لسَّلَامُ کی وفات کے کوئی ایک سو سال بعد چرو اہے بادشاہو ں کے خلاف ایک قومی تحریک شروع ہوئی اہل مصر نے ان غیر ملکی بادشاہوں کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور ایک بار پھر حکومت کے اختیار خود سنبھال لیے- مصریوں کو ہر وقت اس بات کا خدشہ لگا رہتا تھا کہ بنی اسرائیل ملک کے کسی دشمن سے ساز باز نہ کر لے اور مصر پر حملہ نہ کر دیں – انہوں نے اسرائیلیوں کو ہر طرح سے دبانا اور ذلیل کرنا چاہا – ان کا زور توڑنے اور ذلیل کرنے کی مہم شرو ع کر دی انہیں ان کے مکانات اور زرخیز زمینو ں سے بے دخل کیا گیا – حکومت کے بڑے بڑے عہدوں سے نکال دیا گیا – ان پر با عزت روزگار کے دروازے بند کر دیے گے – ان سی بیگار لی جاتی تھی اور اگر اجرت دی جاتی تھی تو نہایت قلیل – وہ عمارتوں کے لیے گا ر اور اینٹیں بناتے اور ڈھوتے تھے – کھیتوں پر محنت مزدوری کرتے – ان پر بیگار لینے والے نگران مقرر تھے – جو ان سے سخت محنت اور مشقت کراتے تھے اور ذرا سی کوتاہی پر انہیں درد ناک سزائیں دیتے تھے – ان کے لیے جینا دوبھرکرتے تھے اور انہیں مصر ہی میں غلامی اور ذلت کی زندگی بسر کرنے دیتے –
حضرت یوسف عَلَيْهِ لسَّلَامُ، دور فرعونیت اور اہل مصر - اسلامک
بنی اسرائیل کی تعداد گھٹانے کے لیے آگے چل کر یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ ان کے لڑکوں کو قتل کیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے – تا کہ وہ مصریوں کی لونڈیوں اور بندیاں بن کر ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائیں – اور رفتہ رفتہ اسرائیل کی نسل ہی ختم ہو جائے –فرعون کے دربار میں ایک نجومی نے بتایا تھا کہ اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو اس کی حکومت کا تختہ الٹ دے گا – اس خطرے سے بچنے کے لیے اس نے ایک فرمان جاری کر دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو لڑکا پیدا ہو اسے فوراً قتل کر دیا جائے – یہ ظالمانہ فرمان جاری ہو گیا اور اس پر سختی سی عمل ہونے لگ گیا – فرعون نے جاسوس عورتیں چھوڑ رکھی تھیں – جو اسرائیلی آبادیوں میں گھوم پھر کر نئے پیدا ہونے والے لڑکوں کا کھوج نکا لتیں اور حکومت کو اطلاع دے کر انہیں قتل کرادیتیں-
انہی دنو ں ایک اسرائیلی گھرانے میں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کو دنیا حضرت موسیٰ عَلَيْهِ لسَّلَامُ کے نام سے یاد کرتی ہے – ان کے بڑے بھائی حضرت ہارون عَلَيْهِ لسَّلَامُ قتل کا فرمان جاری ہونے سے پہلے پیدا ہو چکے تھے اس لیے وہ زندہ سلامت رہے – مگر حضرت موسیٰ عَلَيْهِ لسَّلَامُ کی زندگی ہر وقت خطرے میں تھی – ان کی والدہ ماجدہ کو ہر لمحہ یہ خدشہ لگا رہتا تھا کہ فرعون کے آدمیوں کو پتا چل گیا تو معاملہ بگڑ نہ جائے گا – انہوں نے بڑے صبر سے کام لیا – مگر آخرکار جاسوس عورتوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے گھبرا گئیں – حضرت موسیٰ عَلَيْهِ لسَّلَامُ کی پیدائش سے تین ماہ بعد تک تو اپنے بیٹے کو چھپائے رکھا اور شفقت کی گود میں پالتی رہیں –
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیا – "اپنے پیارے بیٹے کو اطمینان سے دودھ پلاتی رہو- البتہ جب راز فاش ہوتا نظر آئے اور تمہیں اس کی جان کا خطرہ محسوس ہو – تو بے خوف و خطر اسے دریا ے نیل میں ڈال دینا – دریا کی لہریں اسے ایک خاص جگہ تک لے جا کر کنارے پر ڈال دے گی – پھر اسے وہ اٹھا لے گا- جو ابھی دشمن ہے اور اس بچے کا بھی دشمن ہے – مگر اس کا بال تک بیگا نہ ہوگا – بلکہ ہم اسے لوٹا کر تمہارے ہی پاس پہنچا دیں گے ، اور پھر اسے پیغمبری بھی عطا کریں گے –"
اب ان کی والدہ نے الله پاک کے حکم کے مطابق انہیں دریا ئے نیل میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا – انہوں نے سرکنڈو ں کا ایک ٹوکرا بنایا اور اسے مٹی اور رال سے اچھی طرح لیپ دیا تا کہ پانی اس کے اندر نہ آسکے- اپنے لخت جگر کو اس کے اندر لٹادیا اور پھر خدا کا نام لے کر وہ ٹوکرا دریا میں ڈال دیا اور اپنے بچے کو خدا کے حوالے کر دیا – حضرت موسیٰ عَلَيْهِ لسَّلَامُ کی والدہ نے ٹوکرا دریا میں ڈال دیا مگر مامتا کی وجہ سے اس کا دل اڑا جا رہا تھا – شاید گھبراہٹ میں وہ سارا راز کھول ڈالتی مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی پھر ڈھارس بندھا ئی – انہوں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ دریائے نیل کے کنارے کنارے ٹوکرے کے پیچھ پیچھے جاؤ اور اس پر اس طرح سے نظر رکھو کہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ اس ٹوکرے میں جو بچہ ہے تم اس کی نگرانی کر رہی ہو -

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں